
User Rating
Expert Rating 8 out of 10
User Rating
Keywords: Bedtime Stories, fantasy
یہ ناول وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کے پس منظر میں لکھا گیا ہے، جس کی کہانی آگند شہر، دیوتا بستی، وادیٔ سواں، عبادت گاہ، پنس کے پہاڑ، ہاکڑ ساحل اور اندھیرے قلعے جیسے مقامات کے گرد گھومتی ہے۔آگند شہر کے باشندے قلعوں میں رہتے ہیں اور اپنی گزر بسر کھیتی باڑی کے ذریعے کرتے ہیں۔ شہر میں ایک عظیم عبادت گاہ بھی موجود ہے، جو سب سے بلند قلعے پر واقع ہے۔ اسے گھورن نے آباد کیا تھا، مگر اب اس کی سربراہی گوڈے کے پاس ہے۔ آگند شہر کے ہر قلعے کا الگ سربراہ ہے، اور وہاں کے رہائشی اسی قلعے کی نسبت سے پہچانے جاتے ہیں۔ اندھیرا قلعہ بھی آگند شہر کی حدود میں واقع ہے۔ اگرچہ یہاں کے لوگ آگند شہر ہی سے تعلق رکھتے ہیں، مگر اس قلعے میں جادو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس ناول میں ہیبل اور روذیل جیسی پراسرار مخلوقات کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ناول کے آغاز میں دو نوجوان، اسور آنسٹے اور روسو ہورنسبے، ایک پتھر کی اوٹ میں چھپے سیاہ لباس میں ملبوس ایک عورت، روسٹن گوڈے، پر نظریں جمائے ہوئے ہوتے ہیں، جو ایک بت کے سامنے کچھ پڑھنے میں مشغول تھی۔ روسو ہورنسبے کو ایک نہایت اہم مشن سونپا گیا تھا، اور اسور اپنے دوست کی مدد کے لیے اس کے ساتھ تھا۔ مگر آخر ایسا کیا ہوا کہ اسور آنسٹے کی لاش اسی پراسرار عورت کے پاس ملی؟ کیا وہ عورت واقعی ایک جادوگرنی تھی؟ روسو ہورنسبے کو آخر ایسا کون سا مشن سونپا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کے دوست کی جان چلی گئی؟دیوتا بستی کے رہنے والے دیوتا برسٹل کی حقیقت کیا تھی، اور وہ وادیٔ سواں کیوں آیا تھا؟ آگند شہر کو کس خطرے کا سامنا تھا، اور اس کی مدد کون کرے گا؟ پنس کے پہاڑ کا راز کیا تھا؟ روسٹن گوڈے کی اصل حقیقت کیا تھی، اور وہ آگند شہر پر حکومت کیوں کرنا چاہتی تھی؟ آخر اس نے کون سی خوفناک فوج تیار کی تھی؟ان تمام رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے یہ دلچسپ اور پراسرار ناول ضرور پڑھیے۔